زینب کو ہر قدم پہ رلائے گی کربلا
1,314 views1 min read
زینب کبھی بھی بھول نہ پائے گی کربلا
زینب کو ہر قدم پہ رلائے گی کربلا
غازی کا علم تھام کر زینب نے یہ کہا
تیری وفا کی یاد دلائے گی کربلا
کوفے کی منزلوں سے گزرنے کے بعد پھر
زینب دوبارہ لوٹ کے آئے گی کربلا
ہے پاک گھرانے کا لہو خاک میں اس کی
اب خاکِ شفا بن کے دکھائے گی کربلا
کرب و بلا کی خاک میں کھو کر حسین کو
پھر دوسرا حسین نہ پائے گی کربلا
ہم بھول نہ پائیں گے کبھی کرب و بلا کو
تاریخ اس طرح سے بنائے گی کربلا
خونِ حسین بکھرا پڑا ہے زمین پر
دنیا یہی تو سوچ کے آئے گی کربلا
چھپ نہ سکے گی حشر تلک اب یزیدیت
پردہ یزیدیت کا اٹھائے گی کربلا
شبیر کا چمن وہ بہتر 72وفا کے رنگ
ایک ایک زخم یاد دلائے گی کربلا
عاشور کی ہر رات کو خاموش فضا میں
شمع شہادتوں کی جلائے گی کربلا
حمزہ ہر ایک دور میں آوازِ کربلا
روداد غمزدوں کی سنائے گی کربلا



