کربلاء ہو گئی تیار
997 views1 min read
کربلاء ہوگئی تیار کوئی ہے تو چلے
مرضی رب کا خریدار کوئی ہے تو چلے
پھینک کر اپنی سپر کھول کے سب بند زرہ
توڑ کر زانو پہ تلوار کوئی ہے تو چلے
ہے کوئی شہہ کے گلے کی جگہ رکھے جو گلا
ہے رواں خنجر خونخوار کوئی ہے تو چلے
شہہ پہ چلتے ہوئے تیروں کی بدن پر کھانے
روکنے حلق پہ تلوار کوئی ہے تو چلے
ہے وہی بیعت و سر بیچ صدائے انکار
ہے کوئی صاحب انکار کوئی ہے تو چلے
عصر کا ڈوبتا ہوا سورج یہ صدا دیتا ہے
منتظر ہیں شہہ ابرار کوئی ہے تو چلے
فجر ہو ، ظہر ہو ، یاعصر ہو ، مغرب کہ عشاء
استغاثہ ہے لگاتار کوئی ہے تو چلے
روند کر حرص و ہوا جاہ و حشم منصب و مال
پیروحر جگردار کوئی ہے تو چلے
جھلملا کر جو ہوا صبح کا تارا خاموش
حر نے مڑ کر کہا اک بار کوئی ہے تو چلے
رات بھر حر کی صدا آتی ہے کانوں میں نوید
شب عاشور کا بیدار کوئی ہے تو چلے



