العتبة الحسينية المقدسة
ادب حسینی

کربلاء ہو گئی تیار

997 views1 min read

کربلاء ہوگئی تیار کوئی ہے تو چلے

مرضی رب کا خریدار کوئی ہے تو چلے

 

پھینک کر اپنی سپر کھول کے سب بند زرہ

توڑ کر زانو پہ تلوار کوئی ہے تو چلے

 

ہے کوئی شہہ کے گلے کی جگہ رکھے جو گلا

ہے رواں خنجر خونخوار کوئی ہے تو چلے

 

شہہ پہ چلتے ہوئے تیروں کی بدن پر کھانے

روکنے حلق پہ تلوار کوئی ہے تو چلے

 

ہے وہی بیعت و سر بیچ صدائے انکار

ہے کوئی صاحب انکار کوئی ہے تو چلے

 

عصر کا ڈوبتا ہوا سورج یہ صدا دیتا ہے

منتظر ہیں شہہ ابرار کوئی ہے تو چلے

 

فجر ہو ، ظہر ہو ، یاعصر ہو ، مغرب کہ عشاء

استغاثہ ہے لگاتار کوئی ہے تو چلے

 

روند کر حرص و ہوا جاہ و حشم منصب و مال

پیروحر جگردار کوئی ہے تو چلے

 

جھلملا کر جو ہوا صبح کا تارا خاموش

حر نے مڑ کر کہا اک بار کوئی ہے تو چلے

 

رات بھر حر کی صدا آتی ہے کانوں میں نوید

شب عاشور کا بیدار کوئی ہے تو چلے


متعلقہ