کہ ان کا ذکر دلوں کو جمال دیتا ہے
1,117 views1 min read
نظر کو نور لبوں کو گلال دیتا ہے
کہ ان کا ذکر دلوں کو جمال دیتا ہے
اس ایک نام کے صدقے جو لب پہ آتے ہی
سیاہ رات میں تارے اچھال دیتا ہے
پھر اس کے بعد کوئی تیرگی نہیں رہتی
بس اک درد کا جھونکا اجال دیتا ہے
زمانہ جب بھی مرے سر سے کھینچتا ہے رداء
وہ اپنی کملی مرے سر پہ ڈال دیتا ہے
میں کیوں نہ اس کی صداء پر نماز عشق پڑھوں
اذان شہر سخن میں بلال دیتا ہے
قسیم کوثر و زم زم بس ایک چشم کرم
خدا بھی تیرے کرم کی مثال دیتا ہے
یہ معجزہ ہے محمد کے نام کا ثروت
جو مری فکر کو لفظوں میں ڈھال دیتا ہے



