العتبة الحسينية المقدسة
اہل بیت علیہم السلام

امام علی الھادی علیہ السلام سامراء کیوں اور کیسے آئے ؟

1,922 views2 min read

امام علی الھادی علیہ السلام مدینہ میں قیام پذیر تھے لیکن متوکل نے بھی اہلبیت علیہم السلام کے ساتھ اپنے اجداد والا سلوک روا رکھا جس کی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام اور اقرباء اور پیروکاران پر مظالم ڈھانے شروع کردئیے اور انہی مظالم میں سے بلا رضائیت امام علی الھادی علیہ السلام کو سامراء لے آنا تھا اور اس سفر کا سبب مقامی حکومتی کارندوں کا متوکل کو خطوط لکھنا تھا کہ مقامی لوگ امام علیہ السلام کی طرف مائل ہونا تھا اور ان کی اطاعت کرنا تھا اور جب امام ہادی علیہ السلام کے پاس یہ خبر پہنچی تو امام علیہ السلام نے متوکل کو خط لکھا کہ عبد اللہ بن محمد جو کہ حکومتی اہلکاروں کا سرغنہ تھا کے امام علیہ السلام سے ذاتی رنجش و حقد کی اطلاع دی ۔

اس پر متوکل نے امام علیہ السلام کو جواباً خط ارسال فرمایا جس میں سب مکرو فریب و جھوٹ کہا کہ میں آپ کی زیارت کا مشتاق ہوں اور سامراء میں آپکو اپنا مہمان بنانا چاہتا ہوں اور میں آپ کی عزت کرتا ہوں اور نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا احترام کرتا ہوں ۔

اور خط میں مزید لکھا تھا کہ امیرالمؤمنین آپ کی زیارت کے لئے بے قرار ہیں اور اپنی آنکھوں کے سامنے دیدار کے لئے بے چین ہیں ۔

ان ہتھکنڈوں کا مقصد اس طریقے سے بلانا تھا تاکہ آپ کے اصحاب اور پیروکاران کے جذبات کو دھوکا دیا جائے لیکن اصحاب امام علیہ السلام متوکل کی اہلبیت علیہم السلام سے نفرت کا علم رکھتے تھے اسی لئے جب یحییٰ بن حرثمہ مدینہ میں داخل ہوا تاکہ امام علیہ السلام کو سامراء لے جاسکے تو لوگوں نے امام علیہ السلام کی حفاظت کے لئے ہنگامہ بپا کیا جس کی وجہ سے یحییٰ بن حرثمہ حیران رہ گیا پس امام علیہ السلام نے سامراء کا سفر فرمایا اور وہاں 20 سال اور 9 ماہ تک زندگی گزاری یہاں تک کہ معتز عباسی کے دور حکومت میں شہادت پائی 


متعلقہ